عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ لِي جَارِيَةً أَطُوفُ عَلَيْهَا وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ، فَقَالَ:" اعْزِلْ عَنْهَا إِنْ شِئْتَ فَإِنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا"، قَالَ: فَلَبِثَ الرَّجُلُ، ثُمَّ أَتَاهُ، فَقَالَ: إِنَّ الْجَارِيَةَ قَدْ حَمَلَتْ، قَالَ:" قَدْ أَخْبَرْتُكَ أَنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار کا ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا کہ: میری ایک لونڈی ہے جس سے میں صحبت کرتا ہوں اور اس کا حاملہ ہونا مجھے پسند نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”چاہو تو عزل کر لو، جو اس کے مقدر میں ہے وہ تو ہو کر رہے گا“، ایک مدت کے بعد وہ شخص آ کر کہنے لگا، کہ لونڈی حاملہ ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ: ”میں نے تو کہا ہی تھا کہ جو اس کے مقدر میں ہے وہ ہو کر رہے گا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2173]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/النکاح 22 (1439)، (تحفة الأشراف: 2719)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المقدمة 10 (89)، مسند احمد (3/312، 386) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (1439)
الحكم: صحيح