إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، مُجَاهِدٍ ، قَزَعَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، ذُكِرَ ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي الْعَزْلَ، قَالَ:" فَلِمَ يَفْعَلُ أَحَدُكُمْ، وَلَمْ يَقُلْ: فَلَا يَفْعَلْ أَحَدُكُمْ، فَإِنَّهُ لَيْسَتْ مِنْ نَفْسٍ مَخْلُوقَةٍ إِلَّا اللَّهُ خَالِقُهَا". قَالَ أَبُو دَاوُد: قَزَعَةُ مَوْلَى زِيَادٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے عزل ۱؎ کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایسا کیوں کرتا ہے؟ (یہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نہیں فرمایا کہ وہ ایسا نہ کرے)، کیونکہ اللہ تعالیٰ جس نفس کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو وہ اسے پیدا کر کے ہی رہے گا ۲؎“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: قزعہ، زیاد کے غلام ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2170]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/ والتوحید 18 (7409)تعلیقًا، صحیح مسلم/النکاح 22 (1438)، سنن الترمذی/النکاح 40 (1138)، سنن ابن ماجہ/النکاح 30 (1926)، (تحفة الأشراف: 4141، 4280)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/النکاح 55 (3329)، موطا امام مالک/الطلاق 34 (95)، مسند احمد (3/22، 26، 47، 49، 51، 53، 59، 68)، سنن الدارمی/النکاح 36 (2269) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: عضو تناسل کو عورت کی شرمگاہ سے باہر نکال کر منی گرانے کا نام عزل ہے۔
۲؎: اس سے مطلقاً عزل کی کراہت ثابت ہوتی ہے اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ آزاد عورت سے بغیر اس کے اذن کے مکروہ ہے اور لونڈیوں سے بغیر اذن کے بھی درست ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (1438)
الحكم: صحيح