النُّفَيْلِيُّ ، مِسْكِينٌ ، شُعْبَةُ ، يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي غَزْوَةٍ فَرَأَى امْرَأَةً مُجِحًّا، فَقَالَ:" لَعَلَّ صَاحِبَهَا أَلَمَّ بِهَا"، قَالُوا: نَعَمْ، فَقَالَ:" لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنَةً تَدْخُلُ مَعَهُ فِي قَبْرِهِ، كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ، وَكَيْفَ يَسْتَخْدِمُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی غزوہ میں تھے کہ آپ کی نظر ایک حاملہ عورت پر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے مالک نے شاید اس سے جماع کیا ہے“، لوگوں نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ارادہ کیا کہ میں اس پر ایسی لعنت کروں کہ وہ اس کی قبر میں اس کے ساتھ داخل ہو جائے، بھلا کیونکر وہ اپنے لڑکے کو اپنا وارث بنائے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں، وہ کیسے اس سے خدمت لے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2156]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/النکاح 23 (1441)، (تحفة الأشراف: 10924)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/195، 6/446)، سنن الدارمی/السیر 38 (2521) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (1441)
الحكم: صحيح