بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 2134 — باب: عورتوں کے درمیان باری مقرر کرنے کا بیان۔
کتب سنن ابو داؤد کتاب: نکاح کے احکام و مسائل باب: عورتوں کے درمیان باری مقرر کرنے کا بیان۔ حدیث 2134
حدیث نمبر: 2134 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَمَّادٌ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ فَيَعْدِلُ، وَيَقُولُ:" اللَّهُمَّ هَذَا قَسْمِي فِيمَا أَمْلِكُ، فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ". قال أَبُو دَاوُدَ: يَعْنِي الْقَلْبَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (اپنی بیویوں کی) باری مقرر فرماتے تھے اور اس میں انصاف سے کام لیتے تھے، پھر یہ دعا فرماتے تھے: اے اللہ! یہ میری تقسیم ان چیزوں میں ہے جو میرے بس میں ہے، رہی وہ بات جو میرے بس سے باہر ہے اور تیرے بس میں ہے (یعنی دل کا میلان) تو تو مجھے اس کی وجہ سے ملامت نہ فرمانا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2134]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/النکاح 41 (1140)، سنن النسائی/عشرة النساء 2 (3395)، سنن ابن ماجہ/النکاح 47 (1971)، (تحفة الأشراف: 16290)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/144)، سنن الدارمی/النکاح 25 (2253) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (حماد بن زید اور دوسرے زیادہ ثقہ رواة نے اس کو «عن ابی قلابة عن النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم» مرسلا روایت کیا ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف يعني القلب
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3235)
أخرجه الترمذي (1140 وسنده صحيح) والنسائي (3395 وسنده صحيح) وابن ماجه (1971 وسنده صحيح) أبو قلابة برئ من التدليس وباقي السند صحيح
الحكم: ضعيف يعني القلب
← پچھلی حدیث (2133) باب پر واپس اگلی حدیث (2135) →