بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 2125 — باب: کچھ نقد دینے سے پہلے عورت سے خلوت کا بیان۔
کتب سنن ابو داؤد کتاب: نکاح کے احکام و مسائل باب: کچھ نقد دینے سے پہلے عورت سے خلوت کا بیان۔ حدیث 2125
حدیث نمبر: 2125 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ ، عَبْدَةُ ، سَعِيدٌ ، أَيُّوبَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا تَزَوَّجَ عَلِيٌّ فَاطِمَةَ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْطِهَا شَيْئًا"، قَالَ: مَا عِنْدِي شَيْءٌ، قَالَ:" أَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اُن سے کہا: اسے کچھ دے دو، انہوں نے کہا: میرے پاس تو کچھ بھی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: تمہاری حطمی زرہ ۱؎ کہاں ہے؟ ۲؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2125]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن النسائی/النکاح 76 (3378)، (تحفة الأشراف: 6000)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/8) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: حطمي: زرہ ہے جو تلوار کو توڑ دے، یا حطمہ کوئی قبیلہ تھا جو زرہ بنایا کرتا تھا۔
۲؎: اس سے معلوم ہوا کہ شب زفاف (سہاگ رات) میں پہلی ملاقات کے وقت بیوی کو کچھ ہدیہ تحفہ دینا مستحب ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
انظر سنن النسائي (3377 وسنده صحيح، 3378) وللحديث طرق أخريٰ، أنظر مسند الحميدي (38 بتحقيقي)
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (2124) باب پر واپس اگلی حدیث (2126) →