مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، وَحُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَعَلَيْهِ رَدْعُ زَعْفَرَانٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَهْيَمْ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، قَالَ:" مَا أَصْدَقْتَهَا؟" قَالَ: وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ:" أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ". قال أَبُو دَاوُدَ: النَّوَاةُ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ، وَالنَّشُّ عِشْرُونَ، والأوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے جسم پر زعفران کا اثر دیکھا تو پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے ایک عورت سے شادی کر لی ہے، پوچھا: ”اسے کتنا مہر دیا ہے؟“ جواب دیا: گٹھلی (نواۃ ۱؎) کے برابر سونا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ولیمہ کرو چاہے ایک بکری سے ہی کیوں نہ ہو ۲؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2109]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 339)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 1 (2049)، مناقب الأنصار 3 (3781)، 50 (3937)، النکاح 7 (5072)، 49 (5138)، 54 (5153)، 56 (5155)، 68 (5167)، الأدب 67 (6082)، الدعوات 53 (6383)، صحیح مسلم/النکاح 13 (1472)، سنن الترمذی/النکاح 10 (1094) البر والصلة 22 (1933)، سنن النسائی/النکاح 75 (3375)، سنن ابن ماجہ/النکاح 24 (1907)، موطا امام مالک/النکاح 21(47)، مسند احمد (3/165، 190، 205)، سنن الدارمی/الأطعمة 28 (2108)، النکاح 22 (2250) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: نواۃ پانچ سو درہم کو کہتے ہیں، یعنی پانچ درہم (لگ بھگ پندرہ گرام) کے برابر سونا مہر مقرر کیا اور بعضوں نے کہا ہے کہ نواۃ سے کھجور کی گٹھلی مراد ہے۔
۲؎: یہ بات آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی مالی حیثیت دیکھ کر کہی تھی کہ ولیمہ میں کم سے کم ایک بکری ضرور ہو اس سے اس بات پر استدلال درست نہیں کہ ولیمہ میں گوشت ضروری ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کے ولیمہ میں ستو اور کھجور ہی پر اکتفا کیا تھا۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
أخرجه النسائي (3375 وسنده صحيح)
الحكم: صحيح