أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، سُفْيَانُ ، زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ:" الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ يَسْتَأْمِرُهَا أَبُوهَا". قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُوهَا لَيْسَ بِمَحْفُوظٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن فضل سے بھی اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ثیبہ اپنے نفس کا اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے اور کنواری لڑکی سے اس کا باپ پوچھے گا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «أبوها» کا لفظ محفوظ نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2099]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6517) (صحیح)» ( «تستأمر» کے لفظ سے صحیح ہے، اس روایت کا لفظ شاذ ہے)»
قال الشيخ الألباني
صحيح بلفظ تستأمر دون ذكر أبوها
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (1421)
الحكم: صحيح بلفظ تستأمر دون ذكر أبوها