عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، زُهَيْرٌ ، دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَامِرٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلَا الْعَمَّةُ عَلَى بِنْتِ أَخِيهَا، وَلَا الْمَرْأَةُ عَلَى خَالَتِهَا، وَلَا الْخَالَةُ عَلَى بِنْتِ أُخْتِهَا، وَلَا تُنْكَحُ الْكُبْرَى عَلَى الصُّغْرَى، وَلَا الصُّغْرَى عَلَى الْكُبْرَى".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”پھوپھی کے نکاح میں رہتے ہوئے بھتیجی سے نکاح نہیں کیا جا سکتا، اور نہ بھتیجی کے نکاح میں رہتے ہوئے پھوپھی سے نکاح درست ہے، اسی طرح خالہ کے نکاح میں رہتے ہوئے بھانجی سے نکاح نہیں کیا جا سکتا ہے، اور نہ ہی بھانجی کے نکاح میں رہتے ہوئے خالہ سے نکاح درست ہے، غرض یہ کہ چھوٹی کے رہتے ہوئے بڑی سے اور بڑی کے رہتے ہوئے چھوٹی سے نکاح جائز نہیں ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2065]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/النکاح 27 (5109)، سنن الترمذی/النکاح 31 (1126)، سنن النسائی/النکاح 48 (3298)، (تحفة الأشراف: 13539)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/النکاح 4 (1408)، سنن ابن ماجہ/النکاح 31 (1930)، 30 (1126) موطا امام مالک/النکاح 8 (20)، مسند احمد (2/229، 255، 394، 401، 423، 426، 432، 452، 462، 465، 474، 489، 508، 516، 518، 529، 532)، سنن الدارمی/النکاح 8 (2224) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: ہاں اگر ایک مر جائے یا اس کو طلاق دیدے تو دوسری سے شادی کر سکتا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3171)
أخرجه الترمذي (1126 وسنده صحيح) والنسائي (3298 وسنده صحيح)
الحكم: صحيح