قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ الْحَذَّاءُ ، الرَّكِينِ بْنِ الرَّبِيعِ ، حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ الْحَذَّاءُ، عَنْ الرَّكِينِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَجَعَلْتُ أَغْتَسِلُ حَتَّى تَشَقَّقَ ظَهْرِي، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ ذُكِرَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَفْعَلْ إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ، فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، فَإِذَا فَضَخْتَ الْمَاءَ فَاغْتَسِلْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک ایسا آدمی تھا جسے مذی ۱؎ بہت نکلا کرتی تھی، تو میں باربار غسل کرتا تھا، یہاں تک کہ میری پیٹھ پھٹ گئی ۲؎ تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، یا آپ سے اس کا ذکر کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کرو، جب تم مذی دیکھو تو صرف اپنے عضو مخصوص کو دھو ڈالو اور وضو کر لو، جیسے نماز کے لیے وضو کرتے ہو، البتہ جب پانی ۳؎ اچھلتے ہوئے نکلے تو غسل کرو۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 206]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«أخرجه: سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/ باب: الغسل من المني/ ح: 193 عن قتيبة به، وصححه ابن خزيمة، ح:20، وابن حبان (موارد)، ح: 241، سنن نسائي/صفة الوضوء/ باب: ما ينقض الوضوء وما لا ينقض الوضوء من المذى/ ح: 152، سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/ باب: الوضوء من المذى/ ح: 436، (تحفة الأشراف: 10079)، وقد أخرجه: صحيح البخاري/كتاب الغسل/ باب غسل المذي والوضوء منه:/ ح: 269، سنن ترمذي/كتاب الطهارة/ باب ما جاء فى المني والمذي/ ح: 114، سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/ باب: الوضوء من المذي/ ح: 504، مسند احمد (1/109، 125، 145) (صحيح)»
وضاحت
۱؎: مذی ایسی رطوبت کو کہتے ہیں جو عورت سے بوس وکنار کے وقت مرد کے ذکر سے بغیر اچھلے نکلتی ہے۔
۲؎: یعنی ٹھنڈے پانی سے غسل کرتے کرتے پیٹھ کی کھال پھٹ گئی، جیسے سردی میں ہاتھ پاؤں پھٹ جاتے ہیں۔
۳؎: اس سے مراد منی ہے یعنی وہ رطوبت جو شہوت کے وقت اچھل کر نکلتی ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح