حَامِدُ بْنُ يَحْيَى ، مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ الْمَدَنِيُّ ، دَاوُدُ بْنُ خَالِدٍ ، رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، رَبِيعَةَ يَعْنِي ابْنَ الْهُدَيْرِ ، طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ الْمَدَنِيُّ، أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ رَبِيعَةَ يَعْنِي ابْنَ الْهُدَيْرِ، قَالَ: مَا سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدِيثًا قَطُّ غَيْرَ حَدِيثٍ وَاحِدٍ، قَالَ: قُلْتُ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ قُبُورَ الشُّهَدَاءِ، حَتَّى إِذَا أَشْرَفْنَا عَلَى حَرَّةِ وَاقِمٍ، فَلَمَّا تَدَلَّيْنَا مِنْهَا وَإِذَا قُبُورٌ بِمَحْنِيَّةٍ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقُبُورُ إِخْوَانِنَا هَذِهِ؟ قَالَ:" قُبُورُ أَصْحَابِنَا" فَلَمَّا جِئْنَا قُبُورَ الشُّهَدَاءِ، قَالَ:" هَذِهِ قُبُورُ إِخْوَانِنَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ربیعہ بن ہدیر کہتے ہیں کہ میں نے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو سوائے اس ایک حدیث کے کوئی اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتے نہیں سنا، میں نے عرض کیا: وہ کون سی حدیث ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نکلے، آپ شہداء کی قبروں کا ارادہ رکھتے تھے جب ہم حرۂ واقم (ایک ٹیلے کا نام ہے) پر چڑھے اور اس پر سے اترے تو دیکھا کہ وادی کے موڑ پر کئی قبریں ہیں، ہم نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا ہمارے بھائیوں کی قبریں یہی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے صحابہ کی قبریں ہیں ۱؎“، جب ہم شہداء کی قبروں کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ہمارے بھائیوں کی قبریں ہیں ۲؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 2043]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4997)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/161) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: جن کی موت اسلام پر ہوئی ہے اور وہ شہداء کا مقام نہیں پا سکے ہیں۔
۲؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اخوت کی نسبت ان کی طرف کی یہ ان کے لئے بڑے شرف کی بات ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح