بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 1991 — باب: عمرے کا بیان۔
کتب سنن ابو داؤد کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل باب: عمرے کا بیان۔ حدیث 1991
حدیث نمبر: 1991 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اعْتَمَرَ عُمْرَتَيْنِ: عُمْرَةً فِي ذِي الْقِعْدَةِ، وَعُمْرَةً فِي شَوَّالٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو عمرے کئے: ایک ذی قعدہ میں اور دوسرا شوال میں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1991]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16889) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس حدیث میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عمرے کی مجموعی تعداد کا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ ان کی مراد یہ ہے کہ ایک سال کے اندر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو عمرے کئے: ایک ذی قعدہ میں اور ایک شوال میں، لیکن یہ قول صحیح نہیں ہے کیونکہ ایک سال کے اندر دو عمرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی نہیں کیا ہے، اور حج کے ساتھ والے عمرے کو چھوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سارے عمرے ذی قعدہ میں ہوئے ہیں، پھر ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا «عمرۃ فی شوّال» کہنا ان کا وہم ہے، اور اگر اسے محفوظ مان لیا جائے تو اس کی تاویل یہ ہوگی اس عمرہ سے مراد عمرہ جعرانہ ہے جو اگرچہ ذی قعدہ ہی میں ہوا ہے، لیکن مکہ سے حنین کے لئے آپ شوال ہی میں نکلے تھے، اور واپسی پر جعرانہ سے احرام باندھ کر یہ عمرہ کیا تھا تو نکلنے کا لحاظ کرکے انہوں نے اس کی نسبت شوال کی طرف کر دی ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح لكن قوله في شوال يعني ابتداء وإلا فهي كانت في ذي القعدة أيضا
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
أخرجه البيھقي في دلائل النبوة (5/455) وصححه ابن الملقن في تحفة المحتاج (1058)
الحكم: صحيح لكن قوله في شوال يعني ابتداء وإلا فهي كانت في ذي القعدة أيضا
← پچھلی حدیث (1990) باب پر واپس اگلی حدیث (1992) →