مُسَدَّدٌ ، إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فِي حَجَّتِهِ، فَقَالَ:" إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ، السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا، مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ: ثَلَاثٌ مُتَوَالِيَاتٌ: ذُو الْقِعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج میں خطبہ دیا تو فرمایا: ”زمانہ پلٹ کر ویسے ہی ہو گیا جیسے اس دن تھا جب اللہ نے آسمان اور زمین کی تخلیق فرمائی تھی، سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے، ان میں سے چار مہینے حرام ہیں: تین لگاتار ہیں، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم اور ایک مضر کا رجب ہے ۱؎ جو جمادی الآخرہ اور شعبان کے بیچ میں ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1947]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11700)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 132(1742)، وبدء الخلق 2 (3197)، والمغازي 77 (4403)، وتفسیر سورة التوبة 8 (4662)، والأضاحي 5 (5550)، والتوحید 24 (7447)، صحیح مسلم/القسامة 10 (1679)، سنن النسائی/ الکبری/ المحاربہ/ (3595)، مسند احمد (5/37)، سنن الدارمی/المناسک 72 (1957) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: رجب کی نسبت قبیلہ مضر کی طرف اس لئے کی گئی ہے کہ یہ رجب کی حرمت کے سلسلہ میں زیادہ سخت تھے، اور دیگر عرب قبائل کے مقابلہ میں اس کی حرمت کا پاس و لحاظ زیادہ رکھتے تھے۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح، صحيح بخاري (4406) صحيح مسلم (1679)
انظر الحديث الآتي (1948)
الحكم: صحيح