أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، سُفْيَانُ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ:" أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ فِي ضَعْفَةِ أَهْلِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے گھر کے لوگوں میں سے کمزور جان کر مزدلفہ کی رات کو پہلے بھیج دیا تھا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1939]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحج 98 (1678)، وجزاء الصید 25 (1856)، صحیح مسلم/الحج 49 (1293)، سنن النسائی/الحج 208 (3032)، (تحفة الأشراف: 5864)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 58 (292، 893)، سنن ابن ماجہ/المناسک 62 (3025)، مسند احمد (1/221، 222، 245، 272، 334، 346) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ سے رات ہی میں منیٰ روانہ کر دینا جائز ہے، تا کہ وہ بھیڑ بھاڑ سے پہلے کنکریاں مار کر فارغ ہو جائیں، لیکن سورج نکلنے سے پہلے کنکریاں نہ ماریں، جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (1678) صحيح مسلم (1293)
الحكم: صحيح