مُسَدَّدٌ ، عَبْدَ الْوَاحِدِ بْنَ زَيَادٍ ، وَأَبَا عَوَانَةَ ، وَأَبَا مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، عُمَارَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ عَبْدَ الْوَاحِدِ بْنَ زَيَادٍ، وَأَبَا عَوَانَةَ، وَأَبَا مُعَاوِيَةَ حَدَّثُوهُمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً إِلَّا لِوَقْتِهَا، إِلَّا بِجَمْعٍ فَإِنَّهُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ وَصَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ مِنَ الْغَدِ قَبْلَ وَقْتِهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہمیشہ وقت پر ہی نماز پڑھتے دیکھا سوائے مزدلفہ کے، مزدلفہ میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مغرب اور عشاء کو جمع کیا اور دوسرے دن فجر وقت معمول سے کچھ پہلے پڑھی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1934]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحج 99 (1682)، صحیح مسلم/الحج 48 (1289)، سنن النسائی/المواقیت 49 (606)، والحج 207 (3030)، 210 (3041)، (تحفة الأشراف: 9384)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/384، 426، 434) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: ترجمہ سے اس حدیث کا صحیح معنی واضح ہو گیا، بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ” اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیشہ غلس کے بعد اسفار میں نماز پڑھتے تھے صرف اس دن غلس میں پڑھی“، لیکن دیگر صحیح روایات کی روشنی میں اس حدیث کا صحیح مطلب یہ ہے کہ: غلس ہی میں فوراً پڑھ لی، عام حالات کی طرح تھوڑا انتظار نہیں کیا۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (1682) صحيح مسلم (1289)
الحكم: صحيح