أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَبِيهِ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ:" فِيمَ الرَّمَلَانُ الْيَوْمَ وَالْكَشْفُ عَنِ الْمَنَاكِبِ، وَقَدْ أَطَّأَ اللَّهُ الْإِسْلَامَ وَنَفَى الْكُفْرَ وَأَهْلَهُ مَعَ ذَلِكَ، لَا نَدَعُ شَيْئًا كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اسلم کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: اب رمل اور مونڈھے کھولنے کی کیا ضرورت ہے؟ اب تو اللہ نے اسلام کو مضبوط کر دیا ہے اور کفر اور اہل کفر کا خاتمہ کر دیا ہے، اس کے باوجود ہم ان باتوں کو نہیں چھوڑیں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وقت میں کیا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1887]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/المناسک 29(2952)، (تحفة الأشراف: 10391)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/45) (حسن صحیح)»
وضاحت
۱؎: معلوم ہوا کہ شرع کی جس بات کی علت و حکمت سمجھ میں نہ آئے اس کو علی حالہ چھوڑ دینا چاہئے، کیونکہ ایسی صورت میں سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ یہ اللہ کے رسول کی اتباع ہے۔
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
أخرجه ابن ماجه (2952 وسنده حسن)
الحكم: حسن صحيح