أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى ، حَمَّادٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ اعْتَمَرُوا مِنْ الْجِعْرَانَةِ فَرَمَلُوا بِالْبَيْتِ وَجَعَلُوا أَرْدِيَتَهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ قَدْ قَذَفُوهَا عَلَى عَوَاتِقِهِمُ الْيُسْرَى".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے جعرانہ سے عمرہ کا احرام باندھا تو بیت اللہ کے طواف میں رمل ۱؎ کیا اور اپنی چادروں کو اپنی بغلوں کے نیچے سے نکال کر اپنے بائیں کندھوں پر ڈالا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1884]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5538)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/295، 306، 371) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اکڑ کر مونڈھے ہلاتے ہوئے چلنا جیسے سپاہی جنگ کے لئے چلتا ہے، اور یہ صرف پہلے تین چکروں میں ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2585)
الحكم: صحيح