عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَخْرُجُ مِنْ طَرِيقِ الشَّجَرَةِ وَيَدْخُلُ مِنْ طَرِيقِ الْمُعَرَّسِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شجرہ (جو ذی الحلیفہ میں تھا) کے راستے سے (مدینہ سے) نکلتے تھے اور معرس (مدینہ سے چھ میل پر ایک موضع ہے) کے راستہ سے (مدینہ میں) داخل ہوتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1867]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7870)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 37 (1257)، مسند احمد (2/29-30) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث کی باب سے مناسبت یہ ہے کہ جب مکہ میں داخل ہونے اوراس سے نکلنے کی بات آئی تو مدینہ سے نکلنے اور داخل ہونے کی بابت بھی ایک حدیث باب میں ذکر کر دیا، اور اس سے یہ بھی مستنبط کرنا ہے کہ مدینہ ہی نہیں کسی بھی بستی میں داخل ہونے یا اس سے نکلنے کے راستے میں فرق کرنا چاہئے، جیسا کہ اس حدیث پر امام نووی نے صحیح مسلم میں باب باندھا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
أخرجه أحمد (2/142 وسنده صحيح) وانظر الحديث السابق (1866)
الحكم: صحيح