مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنَ عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ،" أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا قَدِمَ مَكَّةَ بَاتَ بِذِي طَوًى حَتَّى يُصْبِحَ وَيَغْتَسِلَ ثُمَّ يَدْخُلَ مَكَّةَ نَهَارًا، وَيَذْكُرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ فَعَلَهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جب مکہ آتے تو ذی طویٰ میں رات گزارتے یہاں تک کہ صبح کرتے اور غسل فرماتے، پھر دن میں مکہ میں داخل ہوتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں بتاتے کہ آپ نے ایسے ہی کیا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1865]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الصلاة 89 (484)، والحج 38 (1573)، 39 (1574)، 148(1767)، 149(1769)، صحیح مسلم/الحج 38 (1259)، سنن النسائی/الحج 103 (2862)، (تحفة الأشراف: 7513)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 31 (854)، سنن ابن ماجہ/المناسک 26 (2940)، موطا امام مالک/الحج 2(6)، مسند احمد (2/ 87)، سنن الدارمی/المناسک 80 (1968) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ افضل یہ ہے کہ مکہ میں دن میں داخل ہو، مگر یہ قدرت اور امکان پر منحصر ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (1553، 1573) صحيح مسلم (1259)
الحكم: صحيح