وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، خَالِدٍ الطَّحَّانِ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، أَبِي قِلَابَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الطَّحَّانِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَقَالَ:" قَدْ آذَاكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟" قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْلِقْ ثُمَّ اذْبَحْ شَاةً نُسُكًا، أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ ثَلَاثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صلح حدیبیہ کے زمانے میں ان کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں تمہارے سر کی جوؤں نے ایذا دی ہے؟“ کہا: ہاں، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”سر منڈوا دو، پھر ایک بکری ذبح کرو، یا تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو تین صاع کھجور کھلاؤ ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1856]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/المحصر 5 (1814)، 6 (1815)، 7 (1816)، 8 (1817)، والمغازي 35 (4159)، وتفسیر البقرة 32 (4517)، والمرضی 16 (5665)، والطب 16 (5703)، وکفارات الأیمان 1 (6808)، صحیح مسلم/الحج10 (1201)، سنن الترمذی/الحج 107(953)، سنن النسائی/الحج 96 (2854)، (تحفة الأشراف: 11114)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 86 (3079)، موطا امام مالک/الحج 78 (237)، مسند احمد (4/ 242، 243، 244) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ حدیث آیت کریمہ «فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضاً أَوْ بِهِ أَذًى مِّن رَّأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ» (سورۃ بقرۃ: ۱۹۶) کی تفسیر ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (1814) صحيح مسلم (1201)
الحكم: صحيح