أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَمَّادٌ ، قَيْسٍ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَ إِلَيْهِ عَضُوُ صَيْدٍ فَلَمْ يَقْبَلْهُ؟ وَقَالَ:" إِنَّا حُرُمٌ"، قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا: زید بن ارقم! کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شکار کا دست ہدیہ دیا گیا تو آپ نے اسے قبول نہیں کیا، اور فرمایا: ”ہم احرام باندھے ہوئے ہیں؟“، انہوں نے جواب دیا: ہاں (معلوم ہے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1850]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/الحج 79 (2823)، (تحفة الأشراف: 3677)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 8 (1195)، مسند احمد (4/367، 369، 371) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
أخرجه النسائي (2823 وسنده صحيح)
الحكم: صحيح