الْحُسَيْنُ بْنُ الْجُنَيْدِ الدَّامِغَانِيُّ ، أَبُو أُسَامَةَ ، عُمَرُ بْنُ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيُّ ، عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ ، عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْجُنَيْدِ الدَّامِغَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حَدَّثَتْهَا، قَالَتْ:" كُنَّا نَخْرُجُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ فَنُضَمِّدُ جِبَاهَنَا بِالسُّكِّ الْمُطَيَّبِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ فَإِذَا عَرِقَتْ إِحْدَانَا سَالَ عَلَى وَجْهِهَا، فَيَرَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا يَنْهَاهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عائشہ بنت طلحہ کا بیان ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا ہے کہ وہ کہتی ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف نکلتے تو ہم اپنی پیشانی پر خوشبو کا لیپ لگاتے تھے جب پسینہ آتا تو وہ خوشبو ہم میں سے کسی کے منہ پر بہہ کر آ جاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کو دیکھتے لیکن منع نہ کرتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1830]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17878)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/79) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ خوشبو احرام سے پہلے کی ہوتی تھی اس لئے منع کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح