مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، هَمَّامٌ ، عَطَاءً ، صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً، أَخْبَرَنَا صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَيْهِ أَثَرُ خَلُوقٍ، أَوْ قَالَ: صُفْرَةٍ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ فِي عُمْرَتِي؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيَ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ، قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْعُمْرَةِ؟" قَالَ:" اغْسِلْ عَنْكَ أَثَرَ الْخَلُوقِ، أَوْ قَالَ: أَثَرَ الصُّفْرَةِ، وَاخْلَعِ الْجُبَّةَ عَنْكَ وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا صَنَعْتَ فِي حَجَّتِكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ جعرانہ میں تھے، اس کے بدن پر خوشبو یا زردی کا نشان تھا اور وہ جبہ پہنے ہوئے تھا، پوچھا: اللہ کے رسول! آپ مجھے کس طرح عمرہ کرنے کا حکم دیتے ہیں؟ اتنے میں اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر وحی نازل کی، جب وحی اتر چکی تو آپ نے فرمایا: ”عمرے کے بارے میں پوچھنے والا کہاں ہے؟“ فرمایا: ”خلوق کا نشان، یا زردی کا نشان دھو ڈالو، جبہ اتار دو، اور عمرے میں وہ سب کرو جو حج میں کرتے ہو“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1819]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحج 17 (1536) والعمرة 10(1789)، وجزاء الصید 19(1847)، والمغازي 56 (4329)، وفضائل القرآن 2 (4985)، صحیح مسلم/الحج 1 (1180)، سنن الترمذی/الحج 20(836)، سنن النسائی/الحج 29 (2669)، 44 (2710)، (تحفة الأشراف: 11836)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/222، 224) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (1789) صحيح مسلم (1180)
مشكوة المصابيح (2528)
الحكم: صحيح