أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَكِيعٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَبَّى حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تلبیہ پکارا یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1815]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحج 22 (1543)، 93(1670)، 101(1685)، صحیح مسلم/الحج 45 (1280)، سنن الترمذی/الحج 78 (918)، سنن النسائی/الحج 216 (3057)، 228 (3081)، 229 (3084)، (تحفة الأشراف: 11050)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 69 (3040)، مسند احمد (1/210، 211، 212، 213، 214)، سنن الدارمی/المناسک 60(1943) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: «حتى رمى جمرة العقبة» سے احمد اور اسحاق نے استدلال کیا ہے کہ تلبیہ کہنا جمرہ عقبہ کی رمی پوری کر لینے کے بعد موقوف کیا جائے گا، لیکن صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت میں «لم يزل يلبي حتى بلغ الجمرة» کے الفاظ آئے ہیں جس سے جمہور علماء نے استدلال کیا ہے کہ جمرہ عقبہ کی رمی کی پہلی کنکری کے ساتھ ہی تلبیہ بند کر دیا جائے گا۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (1685) صحيح مسلم (1280)
الحكم: صحيح