أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ بِبَعْضِ هَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: عِنْدَ قَوْلِهِ:" وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ ثُمَّ حُجِّي وَاصْنَعِي مَا يَصْنَعُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ وَلَا تُصَلِّي".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے آگے اسی قصہ کا کچھ حصہ مروی ہے، اس میں ہے کہ اپنے قول «وأهلي بالحج» ”یعنی حج کا احرام باندھ لو“ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”پھر حج کرو اور وہ تمام کام کرو جو ایک حاجی کرتا ہے البتہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرنا اور نماز نہ پڑھنا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1786]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/ الحج 17 (1213)، (تحفة الأشراف: 2812)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/309) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (1213)
الحكم: صحيح