أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَمَّادٌ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: لَبَّيْنَا بِالْحَجِّ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ:" مَا يُبْكِيكِ يَا عَائِشَةُ؟" فَقُلْتُ: حِضْتُ، لَيْتَنِي لَمْ أَكُنْ حَجَجْتُ، فَقَالَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ! إِنَّمَا ذَلِكَ شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ"، فَقَالَ:" انْسُكِي الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ"، فَلَمَّا دَخَلْنَا مَكَّةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ"، قَالَتْ: وَذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ يَوْمَ النَّحْرِ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْبَطْحَاءِ وَطَهُرَتْ عَائِشَةُ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَرْجِعُ صَوَاحِبِي بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَأَرْجِعُ أَنَا بِالْحَجِّ؟ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَذَهَبَ بِهَا إِلَى التَّنْعِيمِ فَلَبَّتْ بِالْعُمْرَةِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا یہاں تک کہ جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو مجھے حیض آ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں رو رہی تھی، آپ نے پوچھا: ”عائشہ! تم کیوں رو رہی ہو؟“، میں نے کہا: مجھے حیض آ گیا کاش میں نے (امسال) حج کا ارادہ نہ کیا ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی ذات پاک ہے، یہ تو بس ایسی چیز ہے جو اللہ نے آدم کی بیٹیوں کے واسطے لکھ دی ہے“، پھر فرمایا: ”تم حج کے تمام مناسک ادا کرو البتہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرو ۱؎“ پھر جب ہم مکہ میں داخل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو اسے عمرہ بنانا چاہے تو وہ اسے عمرہ بنا لے ۲؎ سوائے اس شخص کے جس کے ساتھ ہدی ہو“، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) کو اپنی ازواج مطہرات کی جانب سے گائے ذبح کی۔ جب بطحاء کی رات ہوئی اور عائشہ رضی اللہ عنہا حیض سے پاک ہو گئیں تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میرے ساتھ والیاں حج و عمرہ دونوں کر کے لوٹیں گی اور میں صرف حج کر کے لوٹوں گی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا وہ انہیں لے کر مقام تنعیم گئے پھر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہاں سے عمرہ کا تلبیہ پڑھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1782]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، (تحفة الأشراف: 17477)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/219) (صحیح)» (لیکن یہ جملہ «من شاء أن يجعلها...الخ» صحیح نہیں ہے جو اس روایت میں ہے، صحیح جملہ یوں ہے «اجعلوها عمرة» یعنی حکم دیا کہ عمرہ بنا ڈالو)
وضاحت
۱؎: طواف ایک ایسی عبادت ہے جس میں طہارت شرط ہے اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو طواف سے روک دیا، طواف کے علاوہ حائضہ حج کے تمام ارکان ادا کرے گی۔
۲؎: جیسا کہ مذکور ہوا یہ جملہ جو اس روایت میں ہے صحیح نہیں ہے، صحیح جملہ یوں ہے: ”تم اپنے حج کو عمرہ بنا ڈالو سوائے اس شخص۔۔۔ الخ“
قال الشيخ الألباني
صحيح دون قوله من شاء أن يجعلها عمرة والصواب اجعلوها عمرة م
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (1211)
الحكم: صحيح دون قوله من شاء أن يجعلها عمرة والصواب اجعلوها عمرة م