مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو مَعْمَرٍ ، مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ ، خُصَيْفٍ ، عِكْرِمَةَ ، وَمُجَاهِدٍ ، وَعَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، وَمُجَاهِدٍ، وَعَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْحَائِضُ وَالنُّفَسَاءُ إِذَا أَتَتَا عَلَى الْوَقْتِ تَغْتَسِلَانِ وَتُحْرِمَانِ وَتَقْضِيَانِ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ". قَالَ أَبُو مَعْمَرٍ فِي حَدِيثِهِ:" حَتَّى تَطْهُرَ"، وَلَمْ يَذْكُرْ ابْنُ عِيسَى عِكْرِمَةَ وَمُجَاهِدًا، قَالَ: عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَلَمْ يَقُلْ: ابْنُ عِيسَى كُلَّهَا، قَالَ:" الْمَنَاسِكَ إِلَّا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”حائضہ اور نفاس والی عورتیں جب میقات پر آ جائیں تو غسل کریں، احرام باندھیں اور حج کے تمام مناسک ادا کریں سوائے بیت اللہ کے طواف کے ۱؎“۔ ابومعمر نے اپنی حدیث میں «حتى تطهر» ”یہاں تک کہ پاک ہو جائیں“ کا اضافہ کیا۔ ابن عیسیٰ نے عکرمہ اور مجاہد کا ذکر نہیں کیا، بلکہ یوں کہا: «عن عطاء عن ابن عباس» اور ابن عیسیٰ نے «كلها» کا لفظ بھی نقل نہیں کیا بلکہ صرف «المناسك إلا الطواف بالبيت» ”مناسک پورے کریں بجز خانہ کعبہ کے طواف کے“ کہا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1744]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الحج 100 (945)، (تحفة الأشراف: 5893)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/363) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: حیض اور نفاس والی عورت حیض یا نفاس سے پاک ہونے کے بعد طواف قدوم اور طواف عمرہ کرے گی، طواف میں جو تاخیر ہوگی اس سے اس کے حج میں کوئی نقض واقع نہیں ہو گا۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (945)
خصيف ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 69
الحكم: صحيح