الْقَعْنَبِيُّ ، مَالِكٍ ، أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ وَبَلَغَنِي أَنَّهُ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لیے جحفہ اور اہل نجد کے لیے قرن کو میقات ۱؎ مقرر کیا، اور مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہل یمن کے لیے یلملم ۲؎ کو میقات مقرر کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1737]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحج 8 (1525)، صحیح مسلم/الحج 2 (1182)، سنن الترمذی/الحج 17 (831)، سنن النسائی/المناسک 17 (2652)، سنن ابن ماجہ/المناسک 13 (2914)، (تحفة الأشراف: 8326)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 8 (22)، مسند احمد (2/48، 55، 65)، سنن الدارمی/المناسک 5 (1831) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: میقات اس مقام کو کہتے ہیں جہاں سے حاجی یا معتمر احرام باندھ کر حج یا عمرہ کی نیت کرتا ہے۔
۲؎: یلملم ایک پہاڑ ہے جو مکہ سے دو دن کے فاصلہ پر واقع ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (1525) صحيح مسلم (1182)
الحكم: صحيح