مُسَدَّدٌ ، خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ ، مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وُهَيْبٌ الْمَعْنَى ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، أَبِي الْعَلَاءِ ، مُطَرِّفٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ الْمَعْنَى، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ وَجَدَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَا عَدْلٍ أَوْ ذَوِي عَدْلٍ وَلَا يَكْتُمْ وَلَا يُغَيِّبْ فَإِنْ وَجَدَ صَاحِبَهَا فَلْيَرُدَّهَا عَلَيْهِ وَإِلَّا فَهُوَ مَالُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جسے لقطہٰ ملے تو وہ ایک یا دو معتبر آدمیوں کو گواہ بنا لے ۱؎ اور اسے نہ چھپائے اور نہ غائب کرے، اگر اس کے مالک کو پا جائے تو اسے واپس کر دے، ورنہ وہ اللہ عزوجل کا مال ہے جسے وہ چاہتا ہے دیتا ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 1709]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/ الکبری (5808، 5809)، سنن ابن ماجہ/اللقطة 2 (2505)، (تحفة الأشراف:11013)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/162) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: گواہ بنانا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے، اس میں حکمت یہ ہے کہ مال کی چاہت میں آگے چل کر آدمی کی نیت کہیں بری نہ ہو جائے، اس بات کا بھی امکان ہے کہ وہ اچانک مر جائے اوراس کے ورثاء اسے میراث سمجھ لیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3039)
أخرجه ابن ماجه (2505 وسنده صحيح)
الحكم: صحيح