مُسَدَّدٌ ، إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةِ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةِ، أَنَّهَا ذَكَرَتْ عِدَّةً مِنْ مَسَاكِينَ قَالَ أَبُو دَاوُد: وقَالَ غَيْرُهُ: أَوْ عِدَّةً مِنْ صَدَقَةٍ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْطِي وَلَا تُحْصِي فَيُحْصَى عَلَيْكِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کئی مسکینوں کا ذکر کیا (ابوداؤد کہتے ہیں: دوسروں کی روایت میں «عدة من صدقة» (کئی صدقوں کا ذکر ہے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”دو اور گنو مت کہ تمہیں بھی گن گن کر رزق دیا جائے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1700]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16234)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الزکاة 62 (2552)، مسند احمد (6/108، 139، 160) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح