مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، سُفْيَانُ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّدَقَةِ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عِنْدِي دِينَارٌ، فَقَالَ:" تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى نَفْسِكَ"، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ:" تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى وَلَدِكَ"، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ:" تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى زَوْجَتِكَ، أَوْ قَالَ: زَوْجِكَ"، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ:" تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى خَادِمِكَ"، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ:" أَنْتَ أَبْصَرُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صدقہ کا حکم دیا تو ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنے کام میں لے آؤ“، تو اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنے بیٹے کو دے دو“، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنی بیوی کو دے دو“، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنے خادم کو دے دو“، اس نے کہا میرے پاس ایک اور ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اب تم زیادہ بہتر جانتے ہو (کہ کسے دیا جائے)“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1691]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/الزکاة 54 (2536)، (تحفة الأشراف: 13041)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/251، 471) (حسن)»
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
مشكوة المصابيح (1940)
أخرجه النسائي (2536 وسنده حسن) محمد بن عجلان صرح بالسماع عند أحمد (2/251، 471)
الحكم: حسن