مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، سَعِيدٍ ، سَعْدًا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، أَنَّ سَعْدًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْجَبُ إِلَيْكَ؟ قَالَ: الْمَاءُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سعد بن عبادہ انصاری خزرجی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: کون سا صدقہ آپ کو زیادہ پسند ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”پانی (کا صدقہ)“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1679]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/الوصایا 9 (3694)، سنن ابن ماجہ/الأدب 8 (3684)، (تحفة الأشراف:3834)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/285، 6/7) (حسن)»
وضاحت
۱؎: پانی کا صدقہ: مثلاً کنواں کھدوانا، نل لگوانا، مسافروں، مصلیوں اور دیگر ضرورت مندوں کے لئے پانی کی سبیل لگانا۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (3694) ابن ماجه (3684)
ذكره الحاكم في المستدرك فقال الذهبي ’’ لا،فإنه غيرمتصل ‘‘ (تلخيص المستدرك : 1/ 414)
يعني سعيد ابن المسيب لم يدرك سعد بن عبادة
وللحديث شواھد ضعيفة عند النسائي (3696) وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 68
الحكم: حسن