مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ بِمِثْلِ بَيْضَةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَبْتُ هَذِهِ مِنْ مَعْدِنٍ فَخُذْهَا فَهِيَ صَدَقَةٌ مَا أَمْلِكُ غَيْرَهَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ قِبَلِ رُكْنِهِ الْأَيْمَنِ، فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ قِبَلِ رُكْنِهِ الْأَيْسَرِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ خَلْفِهِ، فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَذَفَهُ بِهَا فَلَوْ أَصَابَتْهُ لَأَوْجَعَتْهُ أَوْ لَعَقَرَتْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَأْتِي أَحَدُكُمْ بِمَا يَمْلِكُ فَيَقُولُ هَذِهِ صَدَقَةٌ، ثُمَّ يَقْعُدُ يَسْتَكِفُّ النَّاسَ، خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک شخص انڈہ کے برابر سونا لے کر آیا اور بولا: اللہ کے رسول! مجھے یہ ایک کان میں سے ملا ہے، آپ اسے لے لیجئے، یہ صدقہ ہے اور اس کے علاوہ میں کسی اور چیز کا مالک نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا، وہ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آپ کی دائیں جانب سے آیا اور ایسا ہی کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آپ کی بائیں جانب سے آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر اس سے منہ پھیر لیا، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے سے آیا آپ نے اسے لے کر پھینک دیا، اگر وہ اسے لگ جاتا تو اس کو چوٹ پہنچاتا یا زخمی کر دیتا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں ایک اپنا سارا مال لے کر چلا آتا ہے اور کہتا ہے: یہ صدقہ ہے، پھر بیٹھ کر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے، بہترین صدقہ وہ ہے جس کا مالک صدقہ دے کر مالدار رہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1673]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:3097)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الزکاة 25 (1700) (ضعیف)» (اس کے راوی ابن اسحاق مدلس ہیں، اور بذریعہ عن روایت کئے ہوئے ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف إنما يصح منه جملة خير الصدقة
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ابن إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 67
الحكم: ضعيف إنما يصح منه جملة خير الصدقة