بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 1657 — باب: مال کے حقوق کا بیان۔
کتب سنن ابو داؤد کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل باب: مال کے حقوق کا بیان۔ حدیث 1657
حدیث نمبر: 1657 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، شَقِيقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" كُنَّا نَعُدُّ الْمَاعُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَارِيَةَ الدَّلْوِ وَالْقِدْرِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں ہم ڈول اور دیگچی عاریۃً دینے کو «ماعون» ۱؎ میں شمار کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1657]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:9273)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/التفسیر (11701)، مسند احمد 387) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: عام استعمال کی ایسی چیزیں جنہیں عام طور پر لوگ ایک دوسرے سے عاریۃ لیتے رہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن
← پچھلی حدیث (1656) باب پر واپس اگلی حدیث (1658) →