بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 1628 — باب: زکاۃ کسے دی جائے؟ اور غنی (مالداری) کسے کہتے ہیں؟
کتب سنن ابو داؤد کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل باب: زکاۃ کسے دی جائے؟ اور غنی (مالداری) کسے کہتے ہیں؟ حدیث 1628
حدیث نمبر: 1628 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَأَلَ وَلَهُ قِيمَةُ أُوقِيَّةٍ فَقَدْ أَلْحَفَ"، فَقُلْتُ: نَاقَتِي الْيَاقُوتَةُ هِيَ خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ، قَالَ هِشَامٌ: خَيْرٌ مِنْ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا فَرَجَعْتُ فَلَمْ أَسْأَلْهُ شَيْئًا، زَادَ هِشَامٌ فِي حَدِيثِهِ: وَكَانَتِ الْأُوقِيَّةُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو سوال کرے حالانکہ اس کے پاس ایک اوقیہ ہو تو اس نے الحاف کیا، میں نے (اپنے جی میں) کہا: میری اونٹنی یاقوتہ ایک اوقیہ سے بہتر ہے۔ (ہشام کی روایت میں ہے: چالیس درہم سے بہتر ہے)، چنانچہ میں لوٹ آیا اور میں نے آپ سے کچھ نہیں مانگا ۱؎۔ ہشام کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ اوقیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں چالیس درہم کا ہوتا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1628]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن النسائی/الزکاة 89 (2596)، (تحفة الأشراف:4121)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/9) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: آپ کی والدہ محترمہ نے آپ کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کچھ مانگنے کے لئے بھیجا تھا جیسا کہ نسائی کی روایت میں صراحت ہے۔
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
أخرجه النسائي (2596 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (2447 وسنده حسن)
الحكم: حسن
← پچھلی حدیث (1627) باب پر واپس اگلی حدیث (1629) →