حَامِدُ بْنُ يَحْيَى ، سُفْيَانُ ، مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، عِيَاضًا ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، سَمِعَ عِيَاضًا، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ:" لَا أُخْرِجُ أَبَدًا إِلَّا صَاعًا، إِنَّا كُنَّا نُخْرِجُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعَ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ أَوْ أَقِطٍ أَوْ زَبِيبٍ"، هَذَا حَدِيثُ يَحْيَى، زَادَ سُفْيَانُ: أَوْ صَاعًا مِنْ دَقِيقٍ، قَالَ حَامِدٌ: فَأَنْكَرُوا عَلَيْهِ فَتَرَكَهُ سُفْيَانُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: فَهَذِهِ الزِّيَادَةُ وَهْمٌ مِنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ہمیشہ ایک ہی صاع نکالوں گا، ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں کھجور، یا جو، یا پنیر، یا انگور کا ایک ہی صاع نکالتے تھے۔ یہ یحییٰ کی روایت ہے، سفیان کی روایت میں اتنا اضافہ ہے: یا ایک صاع آٹے کا، حامد کہتے ہیں: لوگوں نے اس زیادتی پر نکیر کی، تو سفیان نے اسے چھوڑ دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ زیادتی ابن عیینہ کا وہم ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1618]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد أبو داود بروایة سفیان بن عیینة، وروایة یحییٰ القطان صحیحة موافقة لرقم: 1616، (تحفة الأشراف: 4269) (حسن)» (یحییٰ القطان کی روایت حسن ہے، اور ابن عیینہ کی روایت میں وہم ہے، اس لئے ضعیف ہے)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
شاذ
سنده حسن بالظاهر إلا قوله ’’ صاعًا من دقيق ‘‘ فإنه شاذ وانظر الحديثين السابقين
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 65
الحكم: ضعيف