يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ ، يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَزِينٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ ، أَيُّوبَ بْنِ قَطَنٍ ، أُبَيِّ بْنِ عِمَارَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَزِينٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ قَطَنٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ عِمَارَةَ، قَالَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَكَانَ قَدْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْقِبْلَتَيْنِ: أَنَّهُ قَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ،أَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: يَوْمًا؟، قَالَ: يَوْمًا، قَالَ: وَيَوْمَيْنِ؟ قَالَ: وَيَوْمَيْنِ، قَالَ: وَثَلَاثَةً؟ قَالَ: نَعَمْ، وَمَا شِئْتَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد:رَوَاهُ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ الْمِصْرِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَزِينٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسِيٍّ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ عِمَارَةَ، قَالَ فِيهِ حَتَّى بَلَغَ سَبْعًا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، وَمَا بَدَا لَكَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي إِسْنَادِهِ، وَلَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ،وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيَّوبَ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي إِسْنَادِهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابی بن عمارہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، یحییٰ بن ایوب کا بیان ہے کہ ابی بن عمارہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ دونوں قبلوں (بیت المقدس اور بیت اللہ) کی طرف نماز پڑھی ہے - آپ نے کہا کہ اللہ کے رسول! کیا میں موزوں پر مسح کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، ابی نے کہا: ایک دن تک؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دن تک“، ابی نے کہا: اور دو دن تک؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”دو دن تک“، ابی نے کہا: اور تین دن تک؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اور اسے تم جتنا چاہو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن ابی مریم مصری نے اسے یحییٰ بن ایوب سے یحییٰ نے عبدالرحمٰن بن رزین سے، عبدالرحمٰن نے محمد بن یزید بن ابی زیاد سے، محمد نے عبادہ بن نسی سے، عبادہ نے ابی بن عمارہ سے روایت کیا ہے مگر اس میں ہے: یہاں تک کہ (پوچھتے پوچھتے) سات تک پہنچ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے گئے: ”ہاں، جتنا تم چاہو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس کی سند میں اختلاف ہے، یہ قوی نہیں ہے، اسے ابن ابی مریم اور یحییٰ بن اسحاق سیلحینی نے یحییٰ بن ایوب سے روایت کیا ہے مگر اس کی سند میں بھی اختلاف ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 158]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/الطھارة 87 (557)، (تحفة الأشراف: 6) (ضعیف)» (اس کے راوی ”محمد بن یزید“ مجہول ہیں، اس میں ثقات کی مخالفت بھی ہے اس لئے یہ حدیث منکر بھی ہے)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (557) ببعض الإختلاف في السند
قال الدار قطني:’’ھذا الإسناد لا يثبت …… عبد الرحمٰن ومحمد بن يزيد وأيوب بن قطن مجهولون كلھم‘‘ (سنن دارقطني:1/ 198،199 ح 755)
وقال النووي :’’اتفقوا علي ضعفه واضطرابه‘‘ (خلاصة الأحكام:1/ 130،131 ح 255)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 19
الحكم: ضعيف