صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، سُفْيَانُ ، عُمَرَ بْنِ يَعْلَى
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ يَعْلَى، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَ حَدِيثِ الْخَاتَمِ، قِيلَ لِسُفْيَانَ: كَيْفَ تُزَكِّيهِ؟ قَالَ: تَضُمُّهُ إِلَى غَيْرِهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے عمر بن یعلیٰ (عمر بن عبداللہ بن یعلیٰ بن مرہ) سے اسی انگوٹھی والی حدیث جیسی حدیث مروی ہے سفیان سے پوچھا گیا: آپ اس کی زکاۃ کیسے دیں گے؟ انہوں نے کہا: تم اسے دوسرے میں ملا لو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1566]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19157) (ضعیف)» (عمر بن یعلی ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
عمر بن عبد اللّٰه بن يعلي ضعيف (تق : 4933)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 63
الحكم: ضعيف