بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 1564 — باب: کنز کیا ہے؟ اور زیور کی زکاۃ کا بیان۔
کتب سنن ابو داؤد کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل باب: کنز کیا ہے؟ اور زیور کی زکاۃ کا بیان۔ حدیث 1564
حدیث نمبر: 1564 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، عَتَّابٌ يَعْنِي ابْنَ بَشِيرٍ ، ثَابِتِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَطَاءٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَتَّابٌ يَعْنِي ابْنَ بَشِيرٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَلْبَسُ أَوْضَاحًا مِنْ ذَهَبٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكَنْزٌ هُوَ؟ فَقَالَ:" مَا بَلَغَ أَنْ تُؤَدَّى زَكَاتُهُ، فَزُكِّيَ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں سونے کے اوضاح ۱؎ پہنا کرتی تھی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہ کنز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو مال اتنا ہو جائے کہ اس کی زکاۃ دی جائے پھر اس کی زکاۃ ادا کر دی جائے وہ کنز نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1564]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18199) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: ایک قسم کا زیور ہے جسے پازیب کہا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني
حسن المرفوع منه فقط
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
عطاء بن أبي رباح لم يسمع من أم سلمة رضي اللّٰه عنھا كما قال علي بن المديني:(المراسيل لابن أبي حاتم ص155)
وللمرفوع شواهد
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 62
الحكم: حسن المرفوع منه فقط
← پچھلی حدیث (1563) باب پر واپس اگلی حدیث (1565) →