بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 1544 — باب: (بری باتوں سے اللہ کی) پناہ مانگنے کا بیان۔
کتب سنن ابو داؤد کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل باب: (بری باتوں سے اللہ کی) پناہ مانگنے کا بیان۔ حدیث 1544
حدیث نمبر: 1544 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَمَّادٌ ، إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ، وَالْقِلَّةِ، وَالذِّلَّةِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من الفقر، والقلة، والذلة، وأعوذ بك من أن أظلم أو أظلم» اے اللہ! میں فقر، قلت مال اور ذلت سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں کسی پر ظلم کروں یا کوئی مجھ پر ظلم کرے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1544]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن النسائی/الاستعاذہ 13 (5462)، (تحفة الأشراف:13385)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الدعاء 3 (3838)، مسند احمد (2/305، 325، 354) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: بعض حدیثوں میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فقر اور مسکنت کو طلب کیا ہے اور بعض میں اس سے پناہ مانگی ہے، مرغوب و مطلوب اور پسندیدہ فقر وہ ہے جس میں مال کی کمی ہو لیکن دل غنی ہو، اور دنیا کی حرص و لالچ نہ ہو، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسے فقر سے پناہ مانگی ہے جس میں آدمی واجبی ضروریات زندگی کے حاصل کرنے سے عاجز ہو، اور جس سے عبادت میں خلل پڑتا ہو، اور قلت سے مراد نیکیوں کی کمی ہے نہ کہ مال کی، یا مال کی اتنی کمی ہے جو قوت لایموت اور ناگزیر ضرورتوں کو بھی کافی نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (2467)
أخرجه النسائي (5462 وسنده صحيح)
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (1543) باب پر واپس اگلی حدیث (1545) →