بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 1539 — باب: (بری باتوں سے اللہ کی) پناہ مانگنے کا بیان۔
کتب سنن ابو داؤد کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل باب: (بری باتوں سے اللہ کی) پناہ مانگنے کا بیان۔ حدیث 1539
حدیث نمبر: 1539 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنْ خَمْسٍ: مِنَ الْجُبْنِ، وَالْبُخْلِ، وَسُوءِ الْعُمُرِ، وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پانچ چیزوں بزدلی، بخل، بری عمر (پیرانہ سالی)، سینے کے فتنے اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1539]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن النسائی/الاستعاذة 2 (5445)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 3 (3844)، (تحفة الأشراف:10617)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/54)، (ضعیف)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: بری عمر سے مراد وہ عمر ہے جس میں آدمی نہ عبادت کرنے کے لائق رہتا ہے اور نہ دنیا کے کام کاج کی طاقت رکھتا ہے، وہ لوگوں پر بار ہوتا ہے، اور سینے کے فتنے سے مراد بری موت ہے جو بغیر توبہ کے ہوئی ہو یا حسد کینہ اور کبیرہ وغیرہ امراض قلب ہیں۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (3844)
أبو إسحاق عنعن وللحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 61
الحكم: ضعيف
← پچھلی حدیث (1538) باب پر واپس اگلی حدیث (1540) →