النُّفَيْلِيُّ ، مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، عُثْمَانُ بْنُ وَاقِدٍ الْعُمَرِيُّ ، أَبِي نُصَيْرَةَ ، مَوْلًى لِأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيق ، أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ وَاقِدٍ الْعُمَرِيُّ، عَنْ أَبِي نُصَيْرَةَ، عَنْ مَوْلًى لِأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيق، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَصَرَّ مَنِ اسْتَغْفَرَ، وَإِنْ عَادَ فِي الْيَوْمِ سَبْعِينَ مَرَّةٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو استغفار کرتا رہا اس نے گناہ پر اصرار نہیں کیا گرچہ وہ دن بھر میں ستر بار اس گناہ کو دہرائے“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1514]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الدعوات 107 (3559)، (تحفة الأشراف:6628) (ضعیف)» (اس کے ایک راوی مولی لا ٔبی بکر مبہم مجہول آدمی ہیں)
وضاحت
۱؎: صغیرہ گناہوں پر اصرار سے وہ کبیرہ ہو جاتے ہیں، اور کبیرہ پر اصرار کرنے سے آدمی کفر تک پہنچ جاتا ہے، لیکن اگر ہر گناہ کے بعد صدق دل سے توبہ و استغفار کر لے اور اسے دوبارہ نہ کرنے کی پختہ نیت کرے، مگر بدقسمتی سے پھر اس میں مبتلا ہوجائے تو یہ اصرار نہ ہو گا، اس طرح اس حدیث سے استغفار کی فضیلت ثابت ہوئی۔
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
مشكوة المصابيح (2340)
وللحديث شاھد حسن لذاته عند الطبراني في الدعاء (1797) فيه أبو شيبة سعيد بن عبد الرحمن الأسدي حسن الحديث
الحكم: ضعيف