بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 1503 — باب: کنکریوں سے تسبیح گننے کا بیان۔
کتب سنن ابو داؤد کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل باب: کنکریوں سے تسبیح گننے کا بیان۔ حدیث 1503
حدیث نمبر: 1503 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
دَاوُدُ بْنُ أُمَيَّةَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أُمَيَّةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِ جُوَيْرِيَةَ وَكَانَ اسْمُهَا بُرَّةَ، فَحَوَّلَ اسْمَهَا، فَخَرَجَ وَهِيَ فِي مُصَلَّاهَا، وَرَجَعَ وَهِيَ فِي مُصَلَّاهَا، فَقَالَ:" لَمْ تَزَالِي فِي مُصَلَّاكِ هَذَا؟" قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" قَدْ قُلْتُ بَعْدَكِ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَوْ وُزِنَتْ بِمَا قُلْتِ لَوَزَنَتْهُنَّ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جویریہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے نکلے (پہلے ان کا نام برہ تھا ۱؎ آپ نے اسے بدل دیا)، جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نکل کر آئے تب بھی وہ اپنے مصلیٰ پر تھیں اور جب واپس اندر گئے تب بھی وہ مصلیٰ پر تھیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم جب سے اپنے اسی مصلیٰ پر بیٹھی ہو؟، انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہارے پاس سے نکل کر تین مرتبہ چار کلمات کہے ہیں، اگر ان کا وزن ان کلمات سے کیا جائے جو تم نے (اتنی دیر میں) کہے ہیں تو وہ ان پر بھاری ہوں گے: «سبحان الله وبحمده عدد خلقه ورضا نفسه وزنة عرشه ومداد كلماته» میں پاکی بیان کرتا ہوں اللہ کی اور اس کی تعریف کرتا ہوں اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اس کی مرضی کے مطابق، اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1503]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الذکر والدعاء 19 (2140 و 2726)، (تحفة الأشراف:6358)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/افتتاح 94 (1353)، سنن الترمذی/الدعاء 104(3555)، سنن ابن ماجہ/الأدب 56 (2808)، مسند احمد (1/258، 316، 326، 353) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اسی طرح زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا کا نام بھی برہ تھا، اس کو بدل کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زینب رکھ دیا، اس لئے کہ معلوم نہیں کہ اللہ کے نزدیک کون برہ (نیکوکار) ہے اور کون فاجرہ (بدکار) ہے، انسان کو آپ اپنی تعریف و تقدیس مناسب نہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (2726)
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (1502) باب پر واپس اگلی حدیث (1504) →