بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 1444 — باب: فرض نماز میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان۔
کتب سنن ابو داؤد کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل باب: فرض نماز میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان۔ حدیث 1444
حدیث نمبر: 1444 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُسَدَّدٌ ، حَمَّادٌ ، أَيُّوبَ ، مُحَمَّدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سُئِلَ:" هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَقِيلَ لَهُ: قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَ الرُّكُوعِ، قَالَ: بَعْدَ الرُّكُوعِ، قَالَ مُسَدَّدٌ: بِيَسِيرٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ان سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فجر میں دعائے قنوت پڑھی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، پھر ان سے پوچھا گیا: رکوع سے پہلے یا بعد میں؟ تو انہوں نے کہا: رکوع کے بعد میں ۱؎۔ مسدد کی روایت میں ہے کہ تھوڑی مدت تک ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1444]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الوتر 7 (1001)، صحیح مسلم/المساجد 54 (677)، سنن النسائی/التطبیق 27 (1072)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 120 (1182 و1184)، (تحفة الأشراف:1453)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة 216 (1637)، مسند احمد (3/113) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: قنوت کی دو قسمیں ہیں: قنوت نازلہ اور قنوت وتر یہاں حدیث میں قنوت نازلہ مراد ہے اور یہ رکوع کے بعد فرض نماز میں دشمنان اسلام کے لئے بددعا کے طور پر پڑھی جاتی ہے۔
۲؎: یہ مدت ایک مہینہ پر مشتمل تھی۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (1001) صحيح مسلم (677)
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (1443) باب پر واپس اگلی حدیث (1445) →