قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" رُبَّمَا أَوْتَرَ أَوَّلَ اللَّيْلِ، وَرُبَّمَا أَوْتَرَ مِنْ آخِرِهِ" قُلْتُ: كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَتُهُ، أَكَانَ يُسِرُّ بِالْقِرَاءَةِ أَمْ يَجْهَرُ؟ قَالَتْ:" كُلَّ ذَلِكَ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا أَسَرَّ، وَرُبَّمَا جَهَرَ، وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ، وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وقَالَ غَيْرُ قُتَيْبَةَ: تَعْنِي فِي الْجَنَابَةِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن ابو قیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وتر کے بارے میں پوچھا: انہوں نے کہا: کبھی شروع رات میں وتر پڑھتے اور کبھی آخری رات میں، میں نے پوچھا: آپ کی قرآت کیسی ہوتی تھی؟ کیا سری قرآت کرتے تھے یا جہری؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دونوں طرح سے پڑھتے تھے، کبھی قرآت سری کرتے اور کبھی جہری، کبھی غسل کر کے سوتے اور کبھی وضو کر کے سو جاتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: قتیبہ کے علاوہ دوسروں نے کہا ہے کہ غسل سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد غسل جنابت ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1437]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الحیض 6 (307)، سنن الترمذی/الصلاة 212 (449)، فضائل القران 23 (2924)، (تحفة الأشراف:16279)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/قیام اللیل 21 (1663)، مسند احمد (6/73، 149، 167) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
أخرجه الترمذي (449 وسنده صحيح) وأصله في صحيح مسلم (307)
الحكم: صحيح