أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، الْأَعْمَشِ ، مُسْلِمٍ ، مَسْرُوقٍ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: مَتَى كَانَ يُوتِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ:" كُلَّ ذَلِكَ قَدْ فَعَلَ أَوْتَرَ أَوَّلَ اللَّيْلِ، وَوَسَطَهُ، وَآخِرَهُ، وَلَكِنْ انْتَهَى وِتْرُهُ حِينَ مَاتَ إِلَى السَّحَرِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وتر کب پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: سبھی وقتوں میں آپ نے پڑھا ہے، شروع رات میں بھی پڑھا ہے، درمیان رات میں بھی اور آخری رات میں بھی لیکن جس وقت آپ کی وفات ہوئی آپ کی وتر صبح ہو چکنے کے قریب پہنچ گئی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1435]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الوتر2(996)، صحیح مسلم/المسافرین17 (745)، (تحفة الأشراف:17639)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 218 (الوتر 4) (457)، سنن النسائی/قیام اللیل30 (1682)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 121(1186)، مسند احمد (6/ 46، 100، 107، 129، 205، 206)، سنن الدارمی/الصلاة 211 (1628) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (745)
الحكم: صحيح