عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ وَافِدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ، أَنَّهُ أَتَى عَائِشَةَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، قَالَ: فَلَمْ يَنْشَبْ أَنْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَقَلَّعُ يَتَكَفَّأُ، وَقَالَ عَصِيدَةٌ: مَكَانَ خَزِيرَةٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
بنی منتفق کے وفد میں شریک لقیط بن صبرہ کہتے ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی، اس میں یہ ہے کہ تھوڑی ہی دیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آگے کو جھکتے ہوئے یعنی تیز چال چلتے ہوئے تشریف لائے، اس روایت میں لفظ «خزيرة» کی جگہ «عصيدة» (ایک قسم کا کھانا) کا ذکر ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 143]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 11172) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3260)
وانظر الحديث السابق (142)
الحكم: صحيح