مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الْأَعْلَى ، سَعِيدٌ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، وَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ، وَالسَّابِعَةِ، وَالْخَامِسَةِ". قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، إِنَّكُمْ أَعْلَمُ بِالْعَدَدِ مِنَّا، قَالَ: أَجَلْ، قُلْتُ: مَا التَّاسِعَةُ وَالسَّابِعَةُ وَالْخَامِسَةُ؟ قَالَ: إِذَا مَضَتْ وَاحِدَةٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا التَّاسِعَةُ، وَإِذَا مَضَى ثَلَاثٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا السَّابِعَةُ، وَإِذَا مَضَى خَمْسٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا الْخَامِسَةُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: لَا أَدْرِي أَخَفِيَ عَلَيَّ مِنْهُ شَيْءٌ أَمْ لَا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو اور اسے نویں، ساتویں اور پانچویں شب میں ڈھونڈو“۔ ابونضرہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے ابوسعید! آپ ہم میں سے سب سے زیادہ اعداد و شمار جانتے ہیں، انہوں نے کہا: ہاں، میں نے کہا: نویں، ساتویں اور پانچویں رات سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: جب (۲۱) دن گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات نویں ہے، اور جب (۲۳) دن گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات ساتویں ہے، اور جب (۲۵) دن گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات پانچویں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم اس میں سے کچھ مجھ پر مخفی رہ گیا ہے یا نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1383]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/السہو 98 (1357)، (تحفة الأشراف:4332)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/لیلة القدر 2 (2016)، 3 (2022)، والاعتکاف 1 (2026)، 9 (2036)، 13 (2040)، صحیح مسلم/الصیام 40 (1167)، سنن ابن ماجہ/الصیام 56 (1766)، موطا امام مالک/الاعتکاف 6 (9)، مسند احمد (3/94) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (1167)
الحكم: صحيح