مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبَانُ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً كَانَ يُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ، ثُمَّ يُصَلِّي، قَالَ مُسْلِمٌ: بَعْدَ الْوِتْرِ، ثُمَّ اتَّفَقَا رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ، وَيُصَلِّي بَيْنَ أَذَانِ الْفَجْرِ وَالْإِقَامَةِ رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے (پہلے) آٹھ رکعتیں پڑھتے (پھر) ایک رکعت سے وتر کرتے، مسلم بن ابراہیم کی روایت میں «بعد الوتر» ”وتر کے بعد“ کے الفاظ بھی ہیں (پھر موسیٰ اور مسلم ابن ابراہیم دونوں متفق ہیں کہ) دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے، جب رکوع کرنا چاہتے تو کھڑے ہو جاتے پھر رکوع کرتے اور دو رکعتیں فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان پڑھتے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1340]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/المسافرین 17 (738)، وانظر ایضا رقم: (1338، 1339)، (تحفة الأشراف: 17781) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (738)
الحكم: صحيح