حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، أُمِّ هَانِئٍ
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: مَا أَخْبَرَنَا أَحَدٌ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الضُّحَى غَيْرُ أُمِّ هَانِئٍ، فَإِنَّهَا ذَكَرَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ" اغْتَسَلَ فِي بَيْتِهَا وَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ فَلَمْ يَرَهُ أَحَدٌ صَلَّاهُنَّ بَعْدُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ کسی نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہے سوائے ام ہانی رضی اللہ عنہا کے، انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتح مکہ کے روز ان کے گھر میں غسل فرمایا اور آٹھ رکعتیں ادا کیں، پھر اس کے بعد کسی نے آپ کو یہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1291]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 12 (1103)، والتھجد 31 (1176)، والجزیة 9 (3171)، والغازي 50 (4292)، والآدب 94 (6151)، صحیح مسلم/المسافرین 13 (336)، سنن الترمذی/الصلاة 15 (474)، سنن النسائی/الطہارة 143 (226)، (تحفة الأشراف: 18007)، وقد أخرجہ: الحیض 16 (336)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 187 (1323)، موطا امام مالک/قصر الصلاة 8 (28)، مسند احمد (6/341، 342، 343، 423)، سنن الدارمی/الصلاة 151 (1493) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (1103) صحيح مسلم (336 بعد ح 719)
الحكم: صحيح