حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ، سُفْيَانُ ، عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ، قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ: كَانَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَى عَبْدُ رَبِّهِ، وَيَحْيَى ابْنَا سَعِيدٍ هَذَا الْحَدِيثَ مُرْسَلًا، أَنَّ جَدَّهُمْ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس طریق سے بھی یہ حدیث سعد بن سعید سے اسی سند سے مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: سعید کے دونوں بیٹے عبدربہ اور یحییٰ نے یہ حدیث مرسلاً روایت کی ہے کہ ان کے دادا زید نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تھی اور انہیں کے ساتھ یہ واقعہ ہوا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1268]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11102) (صحیح)» (پچھلی حدیثوں سے تقویت پاکر یہ حدیث بھی صحیح ہے، لیکن زید کی بجائے، صحیح نام قیس ہے)
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره وقوله جدهم زيدا خطأ والصواب جدهم قيس
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
انظر الحديث السابق (1267)
الحكم: صحيح لغيره وقوله جدهم زيدا خطأ والصواب جدهم قيس